Please login to rate this resource.

مطالعہ پاکستان کے نوٹس

پاكستان كی خارجہ پالیسی كے مقاصد

پاكستان 14اگست 1947ء كو دنیا كے نقشہ پر ابھرا اور برطانوی ہندوستان سے خارجہ پالیسی كو ورثہ میں پایا لیكن آزادی كے بعد نظریہ پاكستان اور تحریك پاكستان كے مقاصد كو پیش نظر ركھتے ہوئے خارجہ پالیسی كی تشكیل نو كی گئی۔ پاكستان كی خارجہ پالیسی كے اہم مقاصد مندرجہ ذی ہیں۔

قومی سلامتی
پاكستان كی خارجہ پالیسی كا سب سے اہم مقصد قومی سلامتی و تحفظ ہے۔ پاكستان دنیا كے نقبہ پر نیا نیا ابھرا تھا اور ضرورت تھی كہ اس كی سلامتی و تحفظ كا مناسب بندوبست كیا جائے۔ لہٰذا پاكستان نے ملكی سلامتی كو خارجہ پالیسی كی بنیاد بنایا اور بیرون ممالك كے ساتھ تعلقات میں قومی سلامتی كو ہمیشہ اہمیت دی۔ آج بھی پاكستان كی خارجہ پالیسی میں قومی سلامتی بنیادی نصب العین ہے۔ پاكستان دوسرے ممالك كی علاقائی سالمیت كا احترام كرتاہے۔ اور دوسرے ممالك سے بھی یہ توقع ركھتاہے۔ كہ وہ بھی پاكستان كی قومی سلامتی كا احترا م كریں۔

معاشی ترقی
پاكستان ایك ترقی پذیر ملك ہے اور معاشی طور پر اپنی ترقی چاہتا ہے۔ لہٰذ ا پاكستان ان تمام ممالك كے ساتھ اچھے تعلقات قائم كرنا چاہتا ہے جن كے ساتھ تجارت كر كے یا جن ممالك سے معاشی مدد حاصل كر كے معاشی طورپر ترقی كر سكے۔ نئے اقتصادی رجحانات كو مدنظر ركھتے ہوئے پاكستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں اہم تبدیلیاں كی ہیں۔ خصوصاً آزاد تجارت ٬ آزاد اقتصادیات اور نجكاری كو اپنایا ہے۔

نظریاتی تحفظ
پاكستان ایك نظریاتی مملكت ہے اور اس كی بنیاد نظریہ پاكستان یا نظریہ اسلام پر ہے۔ پاكستان كی خارجہ پالیسی كا اہم مقصد پاكستان كی نظریاتی سرحدوں كا تحفظ ہے۔ پاكستان كا استحكام بھی نظریہ پاكستان كے تحفظ میںمضمرہے۔ یہ اپنے نظریہ كا تحفظ اسلامی ممالك كے ساتھ بہتر تعلقات قائم كر كے ہی كر سكتاہے۔ لہٰذا پاكستان نے ہمیشہ اسلامی ممالك كے ساتھ بہتر تعلقات استوار كیے ہیں۔ اس كے تینوں دساتیر میں اسلامی ملكوں كے ساتھ قریبی تعلقات پر زور دیا گیا ہے۔ پاكستان نے اسلامی كانفرنس كی تنظیم اور اقتصادی تعاون كی تنظیم كے قیام میں اہم كردار ادا كیا ہے۔

 

پاكستان كی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے ذرائع
پاكستان كی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے مندرجہ ذیل ذرائع ہیں:

انتظامی تكون
انتظامی تكون سے مراد قومی سطح كے تین اہم انتظامی عہدے ہیں٬ صدر پاكستان٬ وزیر اعظم پاكستان اور فوج كا سربراہ ہیں۔ پاكستان كی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے ضمن میں انتظامی تكون اہم كردار ادا كرتی ہے۔ یہ تكون پاكستان كی خارجہ پالیسی كو منظور یا نامنظور كر سكتی ہے۔ موجودہ پالیسی میںتبدیلی لا سكتی ہے یا پالیسی كو بالكل مختلف سمت میں چلا سكتی ہے لیكن سابقہ پالیسی سے ہٹنا بہت مشكل ہوتاہے انتظامی تكون عام طور پر سابقہ خارجہ پالسی كو مدنظر ضرور ركھتی ہے یا نئی پالیسی تشكیل دیتے ہوئے بیرون مالك سے كیے وعدوں سے منحرف نہیں ہو سكتی۔

وزارت خارجہ
پاكستان كی وزارت خارجہ خارجہ پالیسی تشكیل دیتے ہوئے بہت اہم كردار ادا كرتی ہے۔ وزارت خارجہ میں عام طورپر خارجہ پالیسی كے ماہرین اور اعلیٰ پایہ كے بیوروكریت ہوتے ہیںَ یہ خارجہ پالیسی كے بنیادی مقاصد اور اصولوں كو مدنظر ركھتے ہوئے خارجہ پالیسی تیار كرتے ہیں۔ یہ خارجہ پالیسی كی ترجیحات كو سامنے ركھتے ہوئے پالیسی كے منصوبے و پروگرام بناتے ہیں اور خارجہ پالیسی كی تشكیل كے ضمن میں انتظامی تكون كی رہنمائی كرتے ہیں ۔ نئی آئینہ تبدیلیوں كے مطابق نیشنل سیكیورٹی كونسل میں انتظامی تكون كا نعم البدل بنتی جا رہی ہے۔

خفیہ ادارے
پاكستان كے خفیہ ادارے پاكستا ن كی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے سلسلے میں اہم كردار ادا كرتے ہیں۔ یہ ادارے دوسرے ممالك كی خارجہ پالیسیوں كے مقاصد كے متعلق مكمل اطلاعات فراہم كرتے ہیں جن كو مدنظر ركھتے ہوئے پاكستان اپنی خارجہ پالیسی تشكیل دیتا ہے۔

سیاسی جماعتیں و پریشر گروپ
پاكستان كی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے ضمن میں پاكستانی كی سیاسی جماعتیں و پریشر گروپ بھی اہم كردار ادا كرتے ہیں۔ سیاسی جماعتیں اپنے منشور میں خارجہ پالیسی كو خاص جگہ دیتی ہیں اور اگر وہ انتخاب جیت جائیں تو اپنے نقطہ نظر كو خارجہ پالیسی میں پیش نظر ركھتی ہیں۔

اسی طرح پریشر گروپ بھی خارجہ پالیسی كی تشكیل كے عمل كو متاثر كرتے ہیں اور حكومت كو خارجہ پالیسی كی ترجیحات كو وقت كے تقاضوں كے مطابق بدلنے پر مجبور كر دیتے ہیں۔

پارلیمنٹ
وزار ت خارجہ انتظامیہ كی ہدایت كے مطابق خارجہ پالیسی تشكیل دیتی ہے۔ اور بض اوقات قومی اسمبلی اور سینٹ كے سامنے منظوری كے لیے پیش كرتی ہے۔ بحث و تمحیص كے بعد پارلیمنٹ عام طور پر طے شدہ خارجہ پالیسی كی منظوری دے دیتی ہے یا اس میں مناسب تبدیلیوں كی سفارش كرتی ہے۔

 

اسلامی جمہوریہ پاكستان كی خارجہ پالیسی

 خارجہہ پالیسی كی تعریف
خارجہ پالیسی بیرونی ممالك سے تعلقات قائ كرنے ان كو فروغ دینے اور قومی مفاد كے حصول كے لیے بین الاقوامی سطح پر مناسب اقدامات اٹھانے كا نام ہے۔

پاكستان كی خارجہ پالیسی كے بنیادی اصول
پاكستان كی خارجہ پالیسی كی بنیاد بنیادی اصولوںپر ركھی گئی ہے۔

١۔  پر امن بقائے باہمی
پاكستان پر امن بقائے باہمی پر یقین ركھتاہے اور دوسروں كی آزادی خود مختاری اور اقتدار اعلیٰ كا احترام كرتا ہے نیز دوسرے ممالك سے بھی یہی توقع ركھتا ہے۔ پاكستان نے ہمیشہ دوسروں كے اندرونی معاملات میں عدم دلچسی كا اظہار كیا ہے۔ استعماریت اور جارحیت كا ہر شكل میں مخالف رہا ہے۔

٢۔  غیر جانبداریت
پاكستان نے اپنی خارجہ پالیسی میں نمایاں تبدیلی كرتے ہوئے غیر جانبداریت كی پالیسی اپنائی ہے۔ جس سے مراد یہ ہے كہ كسی بھی ہلاك كرنے كے ساتھ خود كو وابستہ نہ كیا جائے اور تمام ممالك كے ساتھ بہتر تعلقات مستحكم كیے جائیں۔ اس لیے پاكستان اب روس امریكہ٬ چین ٬ برطانیہ٬ فرانس و دیگر ممالك كے ساتھ بہتر تعلقات قائم كر رہاہے۔ پاكستان اب غیر ممال كی تنظیم (
NAM )كا باقاعدہ ركن بھی بن چكا ہے۔

٣۔  دو طرفہ تعلقات
پاكستان دو طرفہ تعلقات كی بنیا د پر تمام ممالك كے ساتھ روابط بڑھانا چاہتاہے۔ اور اپنے ہمسایہ ممالك كے ساتھ بھی دو طرفہ تعلقات كی بنیاد پر اپنے جھگڑے پر امن طریقے سے طے كرنا چاہتا ہے۔ اسی لیے پاكستان نے ہندوستان كو كشمیر كے مسئلہ كے حل كے لیے كئی دفعہ مذاكرات كی پیش كش كی ہے۔

٤۔  اقوام متحدہ كے چارٹر پر عمل
پاكستان اقوام متحدہ كے چارٹر پر مكمل اتفاق ركھتا ہے۔ اور اس پر عمل كرنے كا سختی سے پابند ہے۔ اس لیے اس نے ہمیشہ اقوام متحدہ كے تمام اقدامات كی مكمل حمایت كی ہے۔ اور اس كے فیصلوں پر عمل درآمد كرنے ك لیے فوجی معاونت بھی كی ہے۔

٥۔  حق خود ارادیت كی حمایت
پاكستان محكوم اقوام كے حق خود ارادیت كی حمایت كرتا ہے۔ اس كا موقف ہے كہ ہر قسم كو اپنے سیاسی مستقبل كا فیصلہ كرنے كا حق ہونا چاہیے۔ یہی وجہ ہے كہ پاكستان نے نو آبادیات كے خاتمہ كے مطالبے نیز ایشیا افریقہ اور یورپ میں حق خود ارااادیت كی تمام تحریكوں كی بھرپور حمایت كی ہے۔ پاكستان نے كشمیر٬ فلسطین٬ بوسنیا٬ نمیبیا اور ویت نام كی جدوجہد آزادی میں اہم كردار اد ا كیا ہے ۔ اور افغانستان میں سابقہ سویت یونین كی فوجی مداخلت كی سخت مخالفت كی ہے۔

٦۔  عالم اسلام كا اتحاد
پاكستان عالم اسلام كے اتحاد كا حامی ہے اور اسلامی ممالك كے ساتھ بہتر تعلقات قائم ركھنے كی پالیسی پر گامزن ہے۔ اسلامی دنیا میں اختلاف كی صورت میں پاكستان ہمیشہ پیش پیش رہا ہے۔ ایران عراق جنگ ہو٬ كویت عراق تنازعہ ہو٬ مشرق وسطیٰ كا مسئلہ ہو یا افغانستان كی آزادی كا مسئلہ ہو پاكستان نے ہمیشہ موثر كردار ادا كیا ہے۔ یہ اسلامی ممالك كی تنظیم
OIC كا سرگرم ركن ہے۔ پاكستان نے اقتصادی تعاون كی تنظیم ECO كو قائم كر كے وسطی ایشیا كے مسلم ممالك كو ایك پلیٹ فارم پر اكٹھے ہونے كا موقع دیا ہے تاكہ اپنی اقتصادی ترقی كے ساتھ ساتھ باہمی تعاون و اتحاد بھی قائم كر سكیں۔

٧۔  تخفیف اسلحہ كی حمایت
پاكستان تخفیف اسلحہ كا حامی ہے اور اس نے ان تمام بین الاقوامی كوششوں كی حمایت كی ہے جو تخفیف اسلحہ كے لیے كی گئی ہیںَ پاكستان از خود اسلحہ كی دوڑ میں شامل نہیں ہوا۔وہ ایٹمی توانائی كو پر امن مقاصد كے لیے استعمال كرنے كے حق میں ہے اور دنیا میں ایٹمی جنگ كے خطرات كے اسباب كے لیے ہر وقت تیار ہے۔ پاكستان جنوبی ایشیا كو ایٹمی ہتھیاروں سے پاك ركھنے كا خواہش مند ہے اور یہ تجویز ہندوستان كو كئی دفعہ پیش كی جا چكی ہے۔

٨۔  نسلی امتیاز كا خاتمہ
پاكستان نسلی امتیاز كا خاتمہ چاہتا ہے۔ ماضی میں بھی پاكستان نے جنوبی افریقہ٬ نمیبیا٬ اور روڈیشیا میںسیاہ فام لوگوں كے ساتھ نسلی امتیاز پر آواز اٹھائی اور نسلی متیاز كے خاتمہ كے لیے ان كی حمایت كی۔ پاكستان كے اندر بھی نسلی امتیاز كا مكمل خاتمہ كیا گیا ہے ارو تمام اقلیتوں كو برابر كے حقوق دیے گئے ہیں۔

٩۔  امن و آشتی كا فروغ
پاكستان دنیا میں امن و آشتی كا فروغ چاہتا ہے۔ پاكستان نے ہمیشہ سامراجی طاقتوں كے خلاف آواز اٹھائی ہے۔ مظلوم و مغلوب اقوام كی حمایت كی ہے اور سامراجی قوتوں كے خلاف برسرپیكار رہا ہے۔ جنوبی ایشیا میں امن وا ٓشتی كے لیے پاكستان نے بار بار بھارت كو مذاكرات كی دعوت دی ہے۔

10۔  ہمسایہ ممالك سے تعلقات
پاكستان نے اپنے تما م ہمسایہ مملك بشمول ہندوستان كے ساتھ دوستانہ تعلقات ركھنے كا حامی ہے۔ پاكستان ہمسایہ ممالك سے تمام تنازعات حل كرنے كا بھی حامی ہے۔ اس لیے پاكستان ہندوستان كے ساتھ تمام تنازعات بشمول كشمیر مذاكرات كے ذریعے پر امن طریقے سے حل كرنا چاہتا ہے اور ہندوستان كو بار بار مذاكرات كی دعوت دے چكا ہے۔ اورامید ہے كہ مستقبل میں ہمسایہ ممالك سے ہمارے تعلقات مزید بہتر ہوجائیں گے۔

١١۔  بین الاقوامی اورعلاقائی تعاون
پاكستان تمام بین الاقوامی اور علاقائی تنظیموں كا سرگرم ركن ہے۔ ان اداروں میں اقوام متحدہ غیر وابستہ ممالك كی تنظیم٬ اسلامی كانفرنس كی تنظیم٬ اقتصادی تعاون كی تنظیم اور سارك اہم ہیں۔ پاكستان بین الاقوامی و علاقائی تعاون كے لیے ان اداروں كی ہمیشہ حمایت كرتا رہا ہے۔ اور عالمی امن كے لیے ان اداروں كی سرگرمیوں میں پیش پیش رہا ہے۔


 

 

قدیم واد ی سندھ كی خصوصیات

١۔  تعمیرات
وادی سندھ كی قدیم تہذیب شہری تھی۔ موہنجوداڑو اورہڑپہ ہم عصر شہر تھے اور دونوں میں بہت سی ملتی جلتی خصوصیات تھیںَ دونوں رقبے كے لحاظ سے بڑے اور كافی گنجان آباد تھے۔ فن تعمیر قابل تعریف تھا شہروں كو باقاعدہ بازاروں گلیوں اور محلوں كی صورت میں بسایا گیا تھا۔ گھروںمیں پانی  كی نكاسی كاعمدہ بندوبست تھا۔ پكی نالیاں تھیں جو اوپر سے ڈھكی ہوئی تھیں۔ گھر كشادہ اورہوا دار تھے۔ پختہ اور كچی دونوں اقسام كی اینٹیں استعمال كی گئی تھیں۔ سڑكیں اور گلیاں چوڑی اور سیدھی تھیں۔ گھروں كیاندر غسل خانے تھے اور محلے میں حمام بنائے گئے تھے۔ عمارتوں كے فر ش پختہ اینٹوں كے بنے ہوئے تھے۔ تعمیرات كا عمدہ اور پختہ ذوق ہر جگہ جھلكتا نظر آتا تھا۔ ہڑپہ یا موہنجوداڑو جائیں تو آثار قدیمہ دكھ كر عقل حیران رہ جاتی ہے كہ كھدائی كے بعد گلیاں اور بازارمكانات اور دیگر عمارتیں باہر نكل آئی ہیںجوپانچ ہزار سال پہلے كے باسیوں كے ذوق اور شعور كا پتہ دیتی ہیں۔ كنوئیں بھی دریافت ہوئے جن سے پانی كی بہم رسائ كے انتظام كا پتہ چلتا ہے۔ گھروں كے نیچے تہہ خانے بھی بنائے جاتے تھے تاكہ موسم كی شدت سے بچا جس سكے۔ تہہ خانوں میں روشنی اور ہوا كے گزر كا اہتمام بھی موجود تھا۔ یقینا قدیم تہذیب كے فن تعمیر كے حوالیسے بہت ترقی یافتہ تھی۔

٢۔  لباس و زیورات
كپاس بونے اور كپڑاتیار كرنے كے شواہد بھی ملے ہیں۔ قدیم تہذیب سے وابستہ لوگ روئی اور كپڑے كے استعمال سے پوری طرح آشنا تھے۔۔ بعض بت اور مجسمے جو كھدائ كے بعد دریافت ہوئے ہیں لباس زیب تن كیے ہوئے ہیں۔ شال اوڑھے اور سلا ہوا لباس پہننے كے ثبوت بھی ملے ہیںَ ایسے اوزار بھی ملے ہیں جن س روئی كاتی جاتی تھی۔ لباس پركڑھائی ارو بیل بوٹے كاكام كرنے كا بھی رواج ہے۔ سلائی اور كڑھائی كے فن سے اس دور كے لوگوں كے فیشن اور شوق كا پتہ چلتا ہے۔ خواتین لہنگا اورچادر استعمال كرتی تھیں۔

خواتین میں زیورات كا استعمال عام تھا۔ كھدائی كے بعد كئی قسموں كے زیورات ملے ہیں مثلاً ہار ٬ بالیاں٬ انگوٹھیاں اورچوڑیاں وغیرہ۔ جواہرات كا استعمال بھی كیا جاتاتھا جو غالباً وسط ایشئا سے منگوائے جاتے تھے۔ ہاتھی كے دانت سے زیورات بنانے كا رواج بھی تھا۔

٣۔  كھلونے
بچوں كے لیے كھلونے تیار كیے جاتے تھے جو عموماً مٹی كے بنے ہوتے تھے۔ جانوروں اور انسانوں كے مجسمے اور روز مرہ استعمال كی چیزوں كے نمونے بھی تیار كیے جاتے تھے۔ مٹی كی بنی ہوئی گڑیاں بھی دریافت ہوئی ہیں۔ گھوڑے اور رتھ كی طرح كے كھلونے بھی كھدائی كے بعدملے ہیں۔ رتھ سے ثابت ہواكہ قدیم لوگ پہیے كے استعمال سے آشنا تھے۔ كھلونوں كی موجودگی سے معاشرت زندگی میں خاندان اور بچوں كی اہمیت واضح ہوتی ہے۔

٤۔  روزمرہ كی گھریلو اشیا
قدیم باشندے كانسی تانبے اور ہاتھی دانت كے استعمال سے واقف تھے۔ البتہ لوہے كے بارے میں ان كے علم كی تصدیق نہیں ہو سكی۔ گھر می استعمال ہونے والے برتن تانبے اور كانسی كے بھی بنائے جاتے تھے۔ زیادہ تر برتن مٹی كے بنے ہوتے تھے۔ مٹی كے پیالے گھڑے۔ تھالیاں مٹكے اور دیگر ظروف بڑی تعداد میں كھدائی كے بعد نكالے گئے۔ ہاتھی دانت اورجانوروں كی ہڈیوں سے بنی ہوئی اشیا بھی ملی ہیں۔ یہ اشیائ آج بھی ہڑپہ اور موہنجوداڑو كے عجائب گھروں میں دیكھی جا سكتی ہیں۔ پاكستان كے بڑے عجائب گھروں میں بھی كھدائی كے بعد حاصل ہونے والی اشیائ عام طورپر لوگوں كو دكھانے كے لیے ركھی گئی ہیںَ طلبا و طالبات ان كا مشاہدہ كركے وادی سندھ كی قدیم تہذیب كے بارے میں بڑی قیمتی معلومات حاصل كر سكتے ہیں۔

٥۔  جنگی ہتھیار
وادی سندھ كے قدیم باشندے تلوار٬ نیزے٬ بھالے٬ تیر كمان٬ كلہاڑی  خنجر آری چاقوجیسے جنگی آلات سے آگاہ تھے۔ یہ ہتھیار زیادہ تعداد میں دریافت نہیں ہوئے اور كوئی بھی ہتھیار لوہے كا بنا ہوا نہیں تھا۔ كانسی اور تانبے كے ہتھیاروں سے جنگ كی جاتی تھی۔ وسطی ایشیا سے آنے والے حملہ آوروں نے علاقے پرآسانی سے قبضہ كر لیا اور مقامی باشندوں كو شكست دے كر یا تو غلام بنا لیا یا پھر ان كو برصغیر كے دوسرے حصوں میںبھاگ جانے پر مجبور كردیا۔ جنگی امور میں وہ لوگ زیادہ ترقی یافتہ نہ تھے۔ اس سے ان كے امن پسند ہونے كا بھی پتہ ملتا ہے۔ وہ لوگ جنگوں میں رتھ كا استعمال بھی كرتے تھے۔



٦۔  تجارت
اندازہ لگایا گیا ہے كہ وادی سندھ كے قدیم باشندوں كے تجارتی تعلقات دوردراز كے علاقوں میںرہنے والے لوگوں سے تھی۔ وہ اپنی اشیا انہیں بھیجتے اور ان سے ملنے والی اشیائ درآمد كرتیتھے۔ تانبا ٬ كانسی ٬ ٹین اور چاندی كے استعمال سے وہ لوگ واقف تھے لیكن یہ اشیا وادی سندھ میں مہیا نہیںتھیں۔ ظاہر ہے كہ وہ باہر سے منگواتے ہوں گے۔ یوں كہا جا سكتا ہے كہ ان كے تجارتی رابطے مختلف علاقوں میں تھے۔ افغانستان وسط ایشیا٬ ایران اور خراسان كے علاقوں میں بسنے والے لوگوں سے ان كا لین دین تھا۔ كھدائی میں ملنے والی اشای میں جواہرات بھی ملے ہیںنیز كئی اقسام كے زیورات كا بھی استعمال كیا جاتاتھا۔ یہ چیزیں بھی وہ دوسرے علاقوں سے حاصل كرتے تھے۔ ماہرین نے ان ہی حقائق كی بنیاد پر اندازہ لگایا ہے كہ وہ تجارت سے بخوبی آگاہ تھے اوراپنی وادی سے باہر كا تجارتی سفر بھی كرتے رہتے تھے۔

٧۔  اعتقادات
كھدائی كی گئی تو بت برآمد ہوئے۔ بتوں كی وجہ سے قیاس كیا جاتا ہے كہ وہ لوگ بت پرست تھے۔ پتھروں اور دھاتوں كے بنائے ہوئے بتوں كی پرستش كرتے تھے۔ سورج چاند اور ستاروں كی پوجا كا بھی رواج تھا ۔ وہ اپنے مردہ افراد كو زمین میں دفن كرتے تھے۔ مشتركہ طورپرعبادت كرنے كے لیے مخصوص عمارتیں بنائی گئی تھیں۔

٨۔  جانور
مچھلی ٬ بھینس٬ خرگوش٬ سانپ٬ ہاتھی ٬گینڈے اور شیر سمیت كچھ جانور اس دور میں پائے جاتے تھے كیونكہ ان جانوروں كی شكلیں دیوار وں اور مختلف مہروں پر بنائی گئی تھیںَ پتھر اور تانبے كی نبی ہوئی مہروں پر جانوروںكی تصاویر سے ظاہر ہوتاا ے كہ وہ لوگ ان جانوروں كی موجودگی سے آگاہ تھے۔ اور اپنی روز مرہ كی زندگی میں ان كااستعماال كرتے تھے مچھلی شیر اور گینڈے كی موجودگی ظاہركرتی ہیكہ وہ شكار سے بھی رغبت ركھتے تھے۔

٩۔  خوراك
جو ٬ گندم٬ مچھلی اور كھجور ان كی خوراك تھی۔ وہ كھیتی باڑی سے كافی حد تك آگاہ تھے۔ جو گندم اور كپاس بوتے تھے۔ كھجور كی گٹھلیاں بھی كھدائی یں دستیاب ہوئی ہیں۔ اور مچھلی پكڑنے كا بھی سامان ملا ہے۔ جس سے ان لوگوں كی خوراك كا پتہ چلتا ہے۔ اناج كے گوداموں كی تعمیر كا سراغ بھی موہنجودڑو اور ہڑپہ كی كھدائی كے بعد ملا ہے۔ اس سے ظاہر ہوتا ہے كہ وہ لوگ بہت ترقی یافتہ اور مہذب تھے۔

٠١۔  گندھارا
وادی سندھ كی قدیم تہذیب 5000سال پہلے موجود تھی۔ وسطی ایشیائی علاقوںسے آنے واے گروہوں اور لشكروں نے وادی سندھ كی ثقافت میں اپنے رنگ بھی شامل كے۔ كشن خاندان كے مہاراجہ كنشك كے دور میں گندھارا ٓرٹ كو بہت عروج حاصل ہوا گندھارا كا علاقہ وادی سندھ كے شمال میں واقع ہے راولپنڈی سے پشاور تك كا علاقہ گندھار ا كہلاتا تھا اور ا س كا مركزی شہر ٹیكسلا تھا۔ 2500سال پہلے گندھارا تہذیب و ثقافت كا ایك ممتاز مركز تھا۔ یہاں تعلیمی سہولتیں بہت معیاری تھیں ٹیكسلا میں یونیورسٹی موجو د تھی۔ جہاں دور دراز سے آئے ہوئے علم كے متلاشی آتے اور فیض یاب ہوتے تھے۔

ثقافتی اعتبار سے 2500سال پہلے كا زمانہ گندھارا میں بڑا ہی اہم اورمنفر د تھا۔ علم و حكمت كے علاوہ مختلف فنون میں بھی وہ لو گ كمال حاصل كرتے تھے۔ سنگ تراشی كا فن خصوصاً نمایاں تھا۔ اس دور كی عبارات لكھی ہوئی پائی جاتی ہیںَ گندھارا كی تہذیب كو حملہ آوروںنے آ كر بہت نقصان پہنچایا۔ ایران وسط ایشیا اور یونان سے آنے والے لشكروں نے گندھارا آرٹ كو تباہ كر دیا اور ساتھ ہی ساتھ مقامی لوگوں كو اپنے فنون سے بھی آگاہ كیا۔ ان علاقوں سے آنے والے لشكریوں كے ہمراہ اہل علم اہل حرفہ اورفنكاربھی آئے اور یوں گندھارا میں مختلف تہذیبوں كے ملاپ سے نئے نئے اثرات مرتب ہوئے۔ یونانیوںنے مجسمہ سازی كے فن پر گہرا اثر ڈالا۔ روز مرہ زندگی كے مختلف پہلو بھی متاثر ہوئے مقامی آادی نے لباس خوراك اوررہائش كے حوالے سے نئے طور طریقے دیكھے۔ عمارتوں كی تعمیر اور آرائش كے اموربھی بدلے اور وادی سندھ كی تہذیب و ثقافت میں یونانی اوردیگر علاقوں كے رنگوں كا اضافہ ہوا۔

گندھارا آرٹ كے مختلف ادوار كے نمونے پاكستان كے عجائب گھروں میںركھے گئے ہیں۔ یونانی اور وسطی ایشیائی اثرات قبول كر كے مقامی آبادی نے جو بن پارے تخلیق كیے وہ بھی عجائب گھرو ں میںموجو د ہیں۔ كثیر تعدادمیں بڑے ہی نادر نمونے ٹیكسلا كے عجائب گھر میں دیھے جا سكتے ہیں۔ ٹیكسلا راولپنڈی سے 40كلومیٹر كے فاصلیئ پر ہے۔ جہاں ہر سال كثیر تعداد میں ملكی اور غیر ملكی سیاح مشرق و مغرب كے حسین امتزاج پر مبنی قدیم تہذیب و ثقافت كا مشاہدہ كرنے آتے ہیں۔


اچھے نظام حكومت میں ركاوٹیں اور ان كا حل
اچھے نظام حكومت (
Good Governance ) كو لاگو كرنے میں ركاوٹوں اور ان كے حل كی وضاحت درج ذیل نكات كریں گے ۔
١۔  افسر شاہی كا رویہ
پاكستان كے قیام سے لے كر آج تك افسر شاہی انتہائی طاقت ور رہی ہے۔ افسر شاہی نہ كسی كو اختیارات دینے كے حق میں ہے اور نہ ہی كسی كے سامنے جواب دہ ہونے كے لیے تیار ہے۔ افسر شاہی كے اس رویہ كی وجہ سے اچھے نظام حكومت كو لاگو كرنے میں بڑی ركاوٹ پیدا ہو رہی ہے۔ جب تك افسر شاہی كا رویہ بدلا نہ جائے اس وقت تك اچھے نظام حكومت كا قیام ناممكن ہے۔

٢۔  جاگیردارنہ نظام
جاگیردارانہ اور زمیندارطبقہ بھی اچھی حكومت كے قیام كے راستے میں ركاوٹ ہے۔ جاگیردارانہ نظام بھی پاكستان كو ورثہ میں ملا تھا۔ ابھی تك اسی طرح قائم ہے ۔ ابتد ا سے لے كر آج تك حكومتوں میں اس طبقہ كا كردار موثر رہا ہے اس لیے انہوں نے كوئی ایسی پالیسی نہیں بننے دی جو ان كے مفاد كے خلاف تھی یا اچھی حكومت كے لیے ضروری تھی۔

٣۔  انتظامیہ كا سیاست میں ملوث ہونا
پاكستان كی یہ بدقسمتی رہی ہے كہ انتظامیہ كے لوگ ہمیشہ كسی نہ كسی طرح سیاست میں ملوث رہے ہیں۔ اور كوئی ایسا منتظم نہ تھا جو غیر جانبدار رہ كر نظام حكومت چلاتا۔ بہت سے افسر شاہی كے لوگ مخصوص سیاسی جماعتوں كی جماعت میں ملك كے قیمتی وسائل خرچ كرتے رہے ہیں۔

٤۔  وسائل كی كمی
اچھا نظام حكومت قائم كرنے كے لیے جدید دور كے تقاضوں كو پورا كرنا ضروری ہے یعنی اس كے وسائل كی ضرورت ہوتی ہے جبكہ پاكستان كے پاس وسائل كی كمی ہے۔ جس وجہ سے ہم اچھے نظام حكومت كی شرائط پر پورا نہیں اتر سكتے۔

٥۔  آئینی تحفظات كا نہ ہونا
پاكستان كے آئین میں بھی ایسے كوئی تحفظات نہیں ہیں جو اچھے نظام حكومت كے قیا م میں معاون ثابت ہوتے ہیں اگر كوئی سول انتظامیہ كا فرد اچھے نظا م حكومت كی طرف قدم بڑھاتا ہے تو اس كو كئی قسم كی مخالفتوں كا سامنا كرنا پڑتا ہے۔ آئینی تحفظات نہ ہونے كی وجہ سے وہ قدم آگے بڑھانے كی بجائے پیچھے چلا جاتا ہے۔

٦۔  احتسابی عمل كا نہ ہونا
پاكستان میں احتساب كا نظام ابھی تك قائم نہیں ہو سكا حالانكہ ہر آنے والی حكومت احتساب كا نعرہ لگاتی ہے۔ اگر كوئی حكومت احتساب كا كوئی نظام بھی قائم كرتی ہے تو بڑا پیچیدہ ہوتاہے جس سے اس حكومت كے اہلكار بڑی مہارت سے بچ جاتے ہیں یا یہ حكومت صرف اپنے مخالفین كا احتساب كرتی ہے۔

٧۔  ملازمین كی قلیل تنخواہیں
پاكستان كے سركاری ملازمین كی تنخواہیں بہت قلیل ہیں۔ وہ اپنی تنخواہوں میں اپنا اور اپنے خاندان كا گزر بسر نہیں كر سكتے۔ دوسری طرف ان كے پاس بے شمار اختیارات ہوتے ہیں۔ ایك دستخط كرنے سے كسی كو لاكھوں كا فائدہ ہو سكتا ہے لہٰذا وہ بھی اس فائدہ میںسركاری ملازم كو حصہ در بناتا ہے۔ جو اچھے نظام حكومت كے قیام كے راستے میں بڑی ركاوٹ ہے۔

اچھے نظام حكومت كے لیے اقدامات
i ۔  افسر شاہی كے رویے كو بدلا جائے اور ان كو بتایا جائے كہ آ پ كو عوا م كی خدمت كے لیے بھرتی كیا گیا ہے لہٰذا صرف عوام كی خدمت كا كام كریں۔

ii ۔  جاگیردارانہ نظام كو ختم كیا جائے۔ یہ كام ہمیں پاكستان كے بننے كے فوراً بعد كر لینا چاہیے تھا لیكن بدقسمتی سے ایسا نہ ہوا۔ دیر آید درست آید كے مترادف اب بھی یہ كام ہمیں فوری طور پر كر لینا چاہیے۔

iii ۔  سول انتظامیہ كا سیاست سے ہرگز كوئی تعلق نہیں ہوتا ان كو باور كرایا جائے كہ آپ غیر سیاسی٬ غیر جماعتی٬ اور غیر جانبدار ہیں لہٰذا غیر جانبداری سے حكومت كے نظام كو چلایا جائے۔

iv ۔  پاكستان میں اللہ تعالیٰ كے فضل سے بے شما ر وسائل ہیں۔ ہمیں ایماندرانہ طور پر ان وسائل كو استعمال میںلانا چاہیے۔

v ۔  پاكستان میں احتسابی نظام غیر جانبدار اورپائیدار ہونا چاہیے۔ ہر با اقتدار فرد كو اپنے اقتدار كا حساب دینا چاہیے۔ حضرت عمر  جیسا احتسابی نظام قائم كركے اچھا نظام حكومت قائم كیا جا سكتا ہے۔

vi ۔  سركاری ملازمین كی تنخواہیں مہنگائی كے حساب سے بڑھائی جائیں اور ساتھ ہی سادگی اور اسلا م كی روح ان كے اندر پیدا كی جائے۔

مقامی حکومتوں کی اختیارات كی تقسیم كا منصوبہ
یہ منصوبہ باقاعدہ طورپر 14اگست 2001ء كو لاگو كیا گیا جس كی بنیاد درج ذیل نكات پر ہے۔
i ۔  سیاسی اختیارات كی نچلی سطح تك تقسیم۔
ii ۔  انتظامی اختیارات كی عدم مركزیت۔
iii ۔  وسائل كی ضلعی سطح پر منتقلی۔
iv ۔  مقامی معاملات میں عوام كی شركت۔
مقامی حكومتوں كے موجودہ آرڈیننس 2001ء میں مقامی حكومتوں كو تین درجوں میں تقسیم كیا گیاہے۔
﴿الف﴾ ضلعی حكومت    ﴿ب﴾ تحصیل یا ٹائون حكومت    ﴿ج﴾ یونین حكومت
ان كی تفصیلات درج ذیل میں پیش كی جاتی ہیں۔
﴿الف ﴾ ضلعی حكومت

ضلعی حكومت ناظم نائب ناظم٬ ضلع كونسل اور ضلعی انتظامیہ پر مشتمل ہوتی ہے۔ جس كاسربراہ ناظم ہوتاہے۔ ناظم كی مدد كے لیے ضلعی رابطہ آفیسر (
DCO )ہوتاہے ضلع ناظم اس بات كو یقینی بناتااہے كہ ضلعی انتظامیہ صحیح طورپر كام كر رہی ہے۔ ضلعی انتظامیہ كا سربراہ ضلعی رابطہ آفیسر ( DCO )ہوتاہے۔

١۔  ضلعی ناظم
ناظم كا انتخاب متعلقہ ضلع كے تمام كونسلر چار سا ل كے لیے كرتے ہیں۔ ناظم كے لیے ضروری ہے كہ وہ میٹرك پاس ہو٬ متعلقہ ضلع كا باشندہ ہو اور پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل كرے۔ ناظم ضلعی حكومت كا سربراہ ہوتاہے۔ اور ضلع میں سیاسی قیادت فراہم كرتاہے۔ یہ ضلع كونسل سے منظور شدہ ترقیاتی منصوبوں كو عملی جامہ پہناتاہے اور ضلع میں امن و امان قائم كرتاہے۔ ضلع كے سالانہ ترقیاتی منصوبوں كی نگرانی بھی اسی كی ذمہ داری ہے۔ وہ ضلع كونسل میں بجٹ پیش كرتاہے۔ اور ضلع میںدیگر سرگرمیاں سر انجام دیتاہے۔

٢۔  نائب ناظم
نائب ناظم كا انتخاب بھی متعلقہ ضلع كے تمام كونسلرز چار سال كے لیے كرتے ہیں۔ نائب ناظم كی بھی كم ا زكم قابلیت میٹرك ہوتی ہے۔ اپنے ضلع كا رہنے والا ہو اور كم از كم پچاس فیصد سے زیادہ ووٹ حاصل كرے۔ نائب ناظم ضلع كونسل كا سربراہ ہوتاہے اور اس كے اجلاسوں كی صدارت كرتا ہے۔ وہ دوران اجلاس ہر قسم كا نظم وضبط قائم ركھتاہے۔

٣۔  ضلع كونسل
متعلقہ ضلع كے اندر تمام یونین كونسلوں كے ناظم بلحاظ عہدہ ضلع كونسل كے ممبر ہوتے ہیں۔ ضلع كونسل كے اركان كی كل تعداد كی تینتیس فیصد نشستیں عورتوں كے لیے پانچ فیصد كسانوں اور مزدوروں كے لیے اور پانچ فیصد اقلیتوں كے لیے مخصوص ہوتی ہیں۔

ضلع كونسل كے فرائض
i ۔  ضلع كونسل كو قانون سازی كا اختیار ہوتاہے۔
ii ۔  ضلع كونسل ضلع حكومت كے لیے بجٹ كی منظوری دیتی ہے۔
iii ۔  اسے ضلع كے اندر ہر قسم كے ٹیكس لگانے اور ان میں كمی بیشی كا اختیار ہوتاہے۔
iv ۔  وہ مخصوص كمیٹیوں كے ذریعے ضلعی انتظامیہ كے معاملات كی نگرانی كرتی ہے۔
v ۔  ضلع كونسل بے شمار كمیٹیوں كا انتخاب كرتی ہے۔
vi ۔  وہ ضلعی حكومت كی پیش كردہ تجاویز اور منصوبوں كی منظوری دیتی ہے۔

4۔  ضلعی انتظامیہ
ضلعی انتظامیہ ایك رابطہ آفسیر كے ذریعے چلائی جاتی ہے ۔ جو گریڈ 19یا 20كا سركاری ملازم ہوتاہے۔ جس كی تقرری صوبائی حكومت كرتی ہے اور  جسے ضلعی رابطہ آفسیر (
DCO )كہا جاتاہے۔ ضلعی رابطہ آفیسر كی معاونت كے لیے ہر محكمہ كا ایك سربراہ ہوتاہے جسے ضلعی ایگزیكٹو آفیسر ( EDO )كہا جاتاہے۔

ضلعی انتظامیہ میں 12محكمے ہوتے ہیں جودرج ذیل ہیں:

i ۔  انسانی وسائل     ii ۔  سول ڈیفنس    iii ۔  زراعت و جنگلات    iv ۔  دیہی ترقی    v ۔  تعلیم       vi ۔  امور مالیات و منصوبہ بندی    vii ۔ صحت    viii ۔  انفارمیشن ٹیكنالوجی    ix ۔  قانون    x ۔  خوا ندگی    xi ۔  نظم و ضبط    xii ۔  مال ٬وركس و خدمات

ضلعی رابطہ آفیسر (
DCO )كے فرائض
i ۔  ضلع كے تمام محكموں سے رابطہ ركھ كر ان كو قانون كے مطابق چلانا۔

ii ۔  ضلع میں مناسب منصوبہ بندی كرتے ہوئے ضلعی انتظامیہ كو موثر بنانا۔

iii ۔  ضلع میں تمام منصوبوں اور پراجیكٹوں كی تیاری كرنا٬ ضلع كونسل سے منظوری حاصل كرنا اورنگرانی كرنا۔

iv ۔  ضلع ناظم كی انتظامی و مالی فرائض كی سر انجام دہی میںمدد كرنا۔

v ۔  ضلع كے لیے بجٹ تیار كر كے ضلع كونسل سے منظوری حاصل كرنا۔

ضلعی ایگزیكٹو آفیسر (
EDO )كے فرائض

i

msword image
Uploaded on 25/10/2009 by school | Viewed: 4948 | Downloaded: 344 | Rating: 0

Download instructions


If required perform the following

  • After downloading resource please re-name the file as appropriate
  • Re-name Ms-Word files to [filename.doc] where file name is whatever you like
  • Re-name Ms-Excel files to [filename.xls] where file name is whatever you like
  • Re-name pdf files to [filename.pdf] where file name is whatever you like

Be first to comment

    Post a Comment

    Name(Required):  
    Valied email(Required):    
    Comment(Required):  
     



    Hot deals

    About Us

    Moalims are a private institutional information system with over 2,500 institutes registered from all over Pakistan and growing day by day, by the grace of Allah. It is established in 2009. It will be the largest education information system of its kind in the Pakistan Inshallah. As a global network, Moalims aims to give Parents, Teachers, students and Professionals a quality information and to prepare engaged People/citizens who shape not only the communities they live in, but also the wider world. A project of Web & Network Solutions Limited

    Follow Us!

    Messenger

    Skype: moalims

    Yahoo: moalims@yahoo.com